وہ قد آور مری اونچائی سے بڑھ کر نہ ہوا
وہ قد آور مری اونچائی سے بڑھ کر نہ ہوا
میرے جھکنے پہ بھی وہ میرے برابر نہ ہوا
اپنی دستار کا سودا نہیں ہوگا مجھ سے
وقت کے قدموں پہ خم میرا کبھی سر نہ ہوا
اپنی آنکھوں سے پلا کر مجھے سیراب کرو
پیاس اتنی ہے کہ دو گھونٹ سمندر نہ ہوا
میں تو اس بوجھ کو سینے سے الگ کر دوں گا
دل کا کیا کام اگر یہ ترا خوگر نہ ہوا
تیری دعوت مرے آئینے کو دھندلا دے گی
جو جھکے شاہ کے در پہ وہ قلندر نہ ہوا
ہے مرے پاس مری خاک نشینی کا جواز
میں ترے نین کے منصب پہ مقرر نہ ہوا
میرے تیور ہی اے مقصودؔ بچت ہے میری
سخت مشکل میں بھی نیلام یہ زیور نہ ہوا