کبھی اوجھل کبھی پیش نظر ہے

کبھی اوجھل کبھی پیش نظر ہے
محبت میں شرارت کا اثر ہے


لچک جائے گی شاخ گل کہاں پر
نزاکت سے وہ اپنی بے خبر ہے


ادائیں دل پہ دستک دے رہی ہیں
محبت گفتگو سے بالاتر ہے


انہیں حق ہے وہ مجھ سے روٹھ جائیں
مگر دل میں رہیں یہ ان کا گھر ہے


خیالوں میں رہا کرتا ہے ہر دم
بچھڑ کر بھی وہ میرا ہم سفر ہے


اگر ممکن ہو خوشبوؤں سے بھر دو
کہانی زندگی کی مختصر ہے


جھکائے گی اسے کیا خاک دنیا
خدا کے سامنے جھکتا جو سر ہے


ملے گی منزل مقصودؔ اک دن
ابھی شاداب خواہش کا شجر ہے