رشتوں میں بھی آئی سیاست کیسی بے ایمانی ہے
رشتوں میں بھی آئی سیاست کیسی بے ایمانی ہے
ہیں سارے الفاظ شگفتہ لہجے میں ویرانی ہے
ہو گیا مشکل کیسے چھپاؤں سر سے لے کر پاؤں تلک
اپنی چادر پھٹ سکتی ہے ایسی کھینچا تانی ہے
اس کو پانے کی کوشش میں جان تری ہلکان ہے کیوں
دنیا اندر سے پیتل اوپر سونے کا پانی ہے
اس حمام میں سب ننگے ہیں کس پہ اٹھائے انگلی کون
اپنی اپنی چوکھٹ ہے اپنی اپنی پیشانی ہے
میں اپنے کمرے میں بیٹھا تنہا تنہا جلتا ہوں
چھت پر چھم چھم ناچ رہی ہے کیسی برکھا رانی ہے
آتے جاتے لمحے اس کو دیکھ رہے ہیں حیرت سے
تخت بنایا ہے سونے کا دو دن کی سلطانی ہے
ہم نے کیا مقصودؔ خسارے کا یہ سودا جیون بھر
اپنے بارے میں نہیں سوچا بات سبھوں کی مانی ہے