مرے مولا ترا تحفہ ہے یہ الہام مجھے (ردیف .. ھ)

مرے مولا ترا تحفہ ہے یہ الہام مجھے
عرش سے آنے لگے ہیں کئی پیغام مجھے


ہجر میں بیٹھ کے رونا ہی نہیں مجھ پر فرض
اور بھی کرنے ہیں اے دوست کئی کام مجھے


جیسے اک ابر چلا آئے برسنے کے لئے
ایسے آتی ہے تری یاد سر شام مجھے


اس لئے عشق کی بیماری سے ڈرتا ہوں میں
عین ممکن ہے کے پھر آئے نہ آرام مجھے


اس لئے ہی تو اسے میں نے بنایا تسبیح
سانس لینے میں ہے آسانی ترا نام مجھے


اس کو پہنا تو کئی سبز پرندے دیکھے
ایک درویش نے لا کر دیا احرام مجھ