یہ جو ہر حرف مرے لفظ کا الجھا ہوا ہے

یہ جو ہر حرف مرے لفظ کا الجھا ہوا ہے
ایسے لگتا ہے کہیں خواب میں سوچا ہوا ہے


کیا یہ ممکن ہے کسی روز اسے چوم سکوں
میرے ماتھے پہ ترا نام جو لکھا ہوا ہے


پس گئے درد کی چکی کی سلوں میں مرے خواب
آنکھ میں نیند نہیں جسم بھی ٹوٹا ہوا ہے


آئنہ توڑ دیا ہے مری وحشت نے مگر
میرے کمرے میں کوئی مجھ سا ہی بکھرا ہوا ہے


ایک دن اس کو اتاروں گا ورق پر فائزؔ
ایک منظر جو مری آنکھ میں اٹکا ہوا ہے