نظر سے دور افق سے پرے اڑان میں تھے
نظر سے دور افق سے پرے اڑان میں تھے
خدا ہی جانے کہ وہ لوگ کس جہان میں تھے
فلک کی سمت اٹھائے ہوئے نگاہیں لوگ
جدا جدا کسی معبود کے گمان میں تھے
سمجھنے والے سمجھتے ہیں اس حقیقت کو
صحیفے جتنے بھی اترے ہماری شان میں تھے
یہ رنگ رنگ مناظر یہ رنگ رنگ کے لوگ
تمام رات کسی خواب کے مکان میں تھے
بس اپنے آپ کو پایا تو کامیاب ہوئے
مگر بتا نہیں سکتے کس امتحان میں تھے