در و دیوار بھی دیتے ہیں حوالہ میرا
در و دیوار بھی دیتے ہیں حوالہ میرا
کیسے ممکن ہوا اس شہر میں چرچا میرا
تم اگر جان گئے ہو تو لبوں کو سی لو
یہی خاموش محبت ہے اثاثہ میرا
خوف آتا ہے تجھے دشت کی ویرانی سے
اے صبا تو نے ابھی گھر نہیں دیکھا میرا
دن نکلتے ہی چلا آئے گا وہ پاس مرے
رات سے ملنے گیا ہے ابھی سایہ میرا
کوئی طاقت ہے کہیں جو نہیں ہونے دیتی
ٹوٹتا رہتا ہے ہر روز ارادہ میرا