منموہن عالم کی غزل

    اس گزرتے وقت کی یہ ترجمانی دیکھنا

    اس گزرتے وقت کی یہ ترجمانی دیکھنا میں ضعیفی دیکھتا ہوں تم جوانی دیکھنا کس قدر ہے ناتواں کہ ایک تنکے کی طرح وقت کے دریا میں بہتی زندگانی دیکھنا آج پھر آوارگی میں سوئے صحرا جو گیا آپ اس کی آج قسمت آزمائی دیکھنا ہم سمجھتے ہیں محبت کا ہے جو مطلب مگر دل پہ کہتا ہے کہ پھر اس کے معانی ...

    مزید پڑھیے

    نہ جانے کیوں اک الجھن دل میں ہر دم پائی جاتی ہے

    نہ جانے کیوں اک الجھن دل میں ہر دم پائی جاتی ہے ہنسی ہونٹوں پہ آتی تو نہیں ہے لائی جاتی ہے کہاں احساس ہوتا ہے خرد یہ مجھ کو بتلائے مجھے الفاظ کی زنجیر جب پہنائی جاتی ہے جیا کانٹوں میں لیکن پھول مسکاتا رہا ہر دم کہ دل کی ٹیس غیروں کو کہاں دکھلائی جاتی ہے عروس زندگی تیری عجب ...

    مزید پڑھیے

    لازم و ملزوم ہیں دونوں قضا اور زندگی

    لازم و ملزوم ہیں دونوں قضا اور زندگی ایک ہی رخ کے ہیں دو پہلو خدا اور زندگی فرق دونوں میں کوئی مجھ کو نظر آیا نہیں ہیں میرے دیکھے ہوئے حسن و ادا اور زندگی ان بدلتے موسموں کے مختلف رنگوں کا رقص میرے اپنے دل کی ہے آب و ہوا اور زندگی وقت کی باتیں ہیں یہ اب دیکھ کر حیراں نہ ہو رو رہے ...

    مزید پڑھیے

    کبھی کبھی مجھ کو لگتا ہے

    کبھی کبھی مجھ کو لگتا ہے سارا کھیل مقدر کا ہے تم بھی دانشور ہو آخر تم نے کیا سوچا سمجھا ہے اپنی اپنی مجبوری ہے سمجھوتا اپنا اپنا ہے تم اپنا کردار نبھاؤ دنیا ایک تماشا سا ہے میں جس کو اپنا کہتا ہوں وہ بھی دل سے کیا میرا ہے سمجھے گا تو وہ رو دے گا وہ بھی تو میرے جیسا ہے

    مزید پڑھیے

    گناہ اپنے اپنے ثواب اپنا اپنا

    گناہ اپنے اپنے ثواب اپنا اپنا کتاب اپنی اپنی عذاب اپنا اپنا مقدر کا رونا ہے کیسا کہ سب نے کیا تھا اگر انتخاب اپنا اپنا بھرم بھی ہیں درکار جینے کو شاید کہ خواب اپنے اپنے سراب اپنا اپنا نقاب اپنی اپنی لگا کے سبھی نے چھپایا سبھی نے عذاب اپنا اپنا ملا زندگانی میں کیا نہ ملا ...

    مزید پڑھیے

    اس کو میرا تو مجھے اس کا سہارا نہ ملا

    اس کو میرا تو مجھے اس کا سہارا نہ ملا لوگ کہتے ہیں ستارے سے ستارہ نہ ملا یہ بھی غم ہے کہ مرے غم کو سمجھنے والا کوئی اس شہر میں تقدیر کا مارا نہ ملا عیش و آرام کی ہر چیز ملی یوں تو مجھے کیسے لیکن میں جیوں اس کا اشارہ نہ ملا کیا کروں آج کہ تقدیر ہے اپنی اپنی مجھ کو طوفاں نہ ملا اس کو ...

    مزید پڑھیے

    ہم اپنی تلخ یادوں کو بھی دفنانے نہیں جاتے

    ہم اپنی تلخ یادوں کو بھی دفنانے نہیں جاتے غرض اب ہم کہیں بھی دل کو بہلانے نہیں جاتے تعارف از سر نو ان سے میرا کیا قیامت ہے پرانے یار بھی اب ان سے پہچانے نہیں جاتے میں ہوں اک لمحۂ موجود سینے سے لگا مجھ کو کہ ماضی میں دل ناداں کو الجھانے نہیں جاتے نہ کر کچھ رنج کہ حالات بن جاتے ...

    مزید پڑھیے

    چند لفظوں کے جال میں رکھا

    چند لفظوں کے جال میں رکھا دل کو رنج و ملال میں رکھا غم کا سایا بھی اس نے اک لا کر نظم روز وصال میں رکھا جو بھی ہم نے جواب میں چاہا اس کو اپنے سوال میں رکھا زندگی کو بھی ہم نے دعوت دی موت کو بھی خیال میں رکھا جو انا تھی وہ طاق پر رکھی خود کو اس کے جلال میں رکھا جو بھی جذبہ اچھالنا ...

    مزید پڑھیے

    آرزوئے وصال کیا کرتے

    آرزوئے وصال کیا کرتے ہم سے کوئی سوال کیا کرتے لمحہ لمحہ ہے بے قرار یہ دل ایسے دل کی سنبھال کیا کرتے جو نہ اپنا خیال کر پائے وہ کسی کا خیال کیا کرتے جن کو شکوہ نہیں کسی سے بھی لوگ ایسے ملال کیا کرتے ان کی باتوں میں آئے اے عالمؔ اپنا جینا محال کیا کرتے

    مزید پڑھیے

    میرے احساس جنوں کا ترجماں ہونا ہی تھا

    میرے احساس جنوں کا ترجماں ہونا ہی تھا ایک دن تو حال دل ان پر عیاں ہونا ہی تھا شدت احساس اپنی دیکھ کر اتنا نہ ڈر یہ وہ جذبہ ہے جسے اک دن جواں ہونا ہی تھا اپنی منزل کے لئے جو راستہ میں نے چنا اس پہ روشن تیرے قدموں کا نشاں ہونا ہی تھا نقش ہو کر رہ گئی وہ مسکراہٹ ذہن پر یہ وہ لمحہ تھا ...

    مزید پڑھیے