نہ جانے کیوں اک الجھن دل میں ہر دم پائی جاتی ہے
نہ جانے کیوں اک الجھن دل میں ہر دم پائی جاتی ہے
ہنسی ہونٹوں پہ آتی تو نہیں ہے لائی جاتی ہے
کہاں احساس ہوتا ہے خرد یہ مجھ کو بتلائے
مجھے الفاظ کی زنجیر جب پہنائی جاتی ہے
جیا کانٹوں میں لیکن پھول مسکاتا رہا ہر دم
کہ دل کی ٹیس غیروں کو کہاں دکھلائی جاتی ہے
عروس زندگی تیری عجب تقدیر ہے کتنی
کہیں ٹھکرائی جاتی ہے کہیں اپنائی جاتی ہے