کبھی کبھی مجھ کو لگتا ہے
کبھی کبھی مجھ کو لگتا ہے
سارا کھیل مقدر کا ہے
تم بھی دانشور ہو آخر
تم نے کیا سوچا سمجھا ہے
اپنی اپنی مجبوری ہے
سمجھوتا اپنا اپنا ہے
تم اپنا کردار نبھاؤ
دنیا ایک تماشا سا ہے
میں جس کو اپنا کہتا ہوں
وہ بھی دل سے کیا میرا ہے
سمجھے گا تو وہ رو دے گا
وہ بھی تو میرے جیسا ہے