اس کو میرا تو مجھے اس کا سہارا نہ ملا
اس کو میرا تو مجھے اس کا سہارا نہ ملا
لوگ کہتے ہیں ستارے سے ستارہ نہ ملا
یہ بھی غم ہے کہ مرے غم کو سمجھنے والا
کوئی اس شہر میں تقدیر کا مارا نہ ملا
عیش و آرام کی ہر چیز ملی یوں تو مجھے
کیسے لیکن میں جیوں اس کا اشارہ نہ ملا
کیا کروں آج کہ تقدیر ہے اپنی اپنی
مجھ کو طوفاں نہ ملا اس کو کنارا نہ ملا
چاہئے کوئی بہانہ بھی تو جینے کے لئے
مجھ کو لیکن کوئی حیلہ کوئی چارہ نہ ملا