آرزوئے وصال کیا کرتے

آرزوئے وصال کیا کرتے
ہم سے کوئی سوال کیا کرتے


لمحہ لمحہ ہے بے قرار یہ دل
ایسے دل کی سنبھال کیا کرتے


جو نہ اپنا خیال کر پائے
وہ کسی کا خیال کیا کرتے


جن کو شکوہ نہیں کسی سے بھی
لوگ ایسے ملال کیا کرتے


ان کی باتوں میں آئے اے عالمؔ
اپنا جینا محال کیا کرتے