لازم و ملزوم ہیں دونوں قضا اور زندگی
لازم و ملزوم ہیں دونوں قضا اور زندگی
ایک ہی رخ کے ہیں دو پہلو خدا اور زندگی
فرق دونوں میں کوئی مجھ کو نظر آیا نہیں
ہیں میرے دیکھے ہوئے حسن و ادا اور زندگی
ان بدلتے موسموں کے مختلف رنگوں کا رقص
میرے اپنے دل کی ہے آب و ہوا اور زندگی
وقت کی باتیں ہیں یہ اب دیکھ کر حیراں نہ ہو
رو رہے ہیں آج دونوں دل مرا اور زندگی
کس طرح بیتا سفر پوچھا تو سب نے یہ کہا
دھوپ اور چھاؤں کا رستہ قافلہ اور زندگی
زندگی سے تو خفا ہوں پر قضا سے خوف ہے
اور دونوں ہی بلاتے ہیں قضا اور زندگی
میں نے جو پوچھا کہ راحت ڈھونڈنے جاؤں کہاں
چپ رہے دونوں ہی میرا ہم نوا اور زندگی