خوشبوؤں کا ہر طرف انبار ہے
خوشبوؤں کا ہر طرف انبار ہے
کوئی تو ہے جو پس دیوار ہے
چھاؤں میں کیسے ٹھہرتی ایک پل
دھوپ بھی تو صاحب کردار ہے
ہے سفر خوشیوں کا لیکن زندگی
سر پہ اک لٹکی ہوئی تلوار ہے
کون کس کی اب مسیحائی کرے
ذہن ہی اس عہد کا بیمار ہے
قد بڑھا دیں جس کا جھوٹی شہرتیں
آج وہ سب سے بڑا فن کار ہے
غم ملے ہیں جب سے ہم کو آپ کے
ہم ہیں اور خوشیوں کا کاروبار ہے