ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں
ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں
ہمارے گھر کے در و بام مہکے جاتے ہیں
میں سوکھی ڈال ہوں لیکن تمہاری یادوں کے
پرندے آ کے سر شام بیٹھ جاتے ہیں
ہماری آنکھوں میں یوں انتظار روشن ہے
ندی میں جیسے کئی دیپ جھلملاتے ہیں
چلی ہیں دور ترقی کی آندھیاں کیا کیا
شرافتوں کے در و بام ٹوٹے جاتے ہیں
دھندلکا شام کا چھانے لگا ہے سوچتی ہوں
کہ اس سمے تو پرندے بھی لوٹ آتے ہیں
یہ زندگی وہ کڑی دھوپ ہے نسیمؔ یہاں
نہ جانے کتنے ہرے پیڑ سوکھ جاتے ہیں