از سر نو تشکیل
حق صداقت اور حسن یہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئے مٹی کے اندر دبے ہوئے فاسلس ہیں آؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کر تجربہ گاہوں میں لے چلے اور ہو سکے تو ڈی این اے سے ان کی از سر نو تشکیل کریں
حق صداقت اور حسن یہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئے مٹی کے اندر دبے ہوئے فاسلس ہیں آؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کر تجربہ گاہوں میں لے چلے اور ہو سکے تو ڈی این اے سے ان کی از سر نو تشکیل کریں
لال پیلی نیلی نیلی اور ہری خواہشوں کی جانے کتنی مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں میرے جار میں اور جب ان میں سے کوئی یک بیک اک تمنا بن کے باہر کودتی ہیں صاف ستھرے فرش پہ دم توڑتی ہے
سخت سطح سے مٹی ہٹا کر گہری زمیں کے اندر جا کے جذب ہو چکے گدلے پانی کو اوپر لاتا ہوں پھر تشبیہوں علامتوں اور استعاروں کے برتن میں اس کو صاف و کشید کر کے اپنی پیاس بجھاتا ہوں اور دنیا کی تشنہ لبی بھی سیرابی حاصل کرتی ہے
شہروں کے شفاف بدن اور تہذیبوں کے سینوں پر نیلی برا میں لپٹی متمدن چھاتیوں میں جتنی کشش ہے اتنا دودھ نہیں ہے چاند رنگ ڈھلوانوں پر انسانوں کے آنسوؤں کا ایک بھی قطرہ ٹھہر نہیں سکتا ہے آ کر تو پھر ہم سب کیوں نہ چل کر صحرا میں ہی رہا کریں اب
خاموشی سے پوچھا میں نے کیوں آتی ہے پاس تو میرے آخر کیوں سمٹی رہتی ہے کیا رکھا ہے کیا ملتا ہے تجھ کو یہاں پر کچھ نہیں بولی چپ سی رہی اور دور تلک پھر پھیل گئی وہ
میری آنکھوں نے نئے نئے خوابوں کو تو دعوت دے دی ہے سو اپنے ہاتھوں کو پھر سے جنبش دوں گا جن پر آ کر ٹوٹ چکے ہیں نا جانے کتنے ہی حباب نیند کے پھیر نے کیا کر ڈالا جاگتی آنکھوں سے میں اب یہ سوچ رہا ہوں کیا ہوگا جب پلکوں پر مہمان آئیں گے میرے پاس سوائے وہی پرانے خوابوں کی روکھی سوکھی ...
صبح صبح اچھا لگتا ہے گھر سے نکل کر سیر کو جانا ٹھنڈی ٹھنڈی نرم ہواؤں کے ساگر میں منہ کو دھونا اور تر و تازہ ہو جانا لان میں بوگین ویلیا کی ڈالی پہ بلبل کا اترانا پھدک پھدک کر جھولے جانا لیکن جب اتنی ہی دیر میں مین گیٹ پر آ کر کوئی کاغذات کچھ دے جاتا ہے جن کے تحریری خنجر سے بیلے کی ...
مجھے معلوم ہے کہ کچھ نہ بدلے گا نہ شاخ ہجر پر آثار آئیں گے خزاؤں کے خیالوں کے سمندر میں نہ کچھ تبدیلی آئے گی نہ کرداروں کے روز و شب میں کوئی فرق آئے گا مگر ان نظموں غزلوں کی کہانی اور گیتوں کی آتی جاتی لہروں سے یہ میرا خشک ساحل سیراب تو ہوتا رہے مجھ کو میرے ہونے کا احساس تو ہوتا ...
میں نے اپنے آبا کی کتابوں کو کاٹھ کی اونچی اور مضبوط المایوں سے نکال کر خوب پڑھا ہے ان کی خوشبو سونگھی ہے ان کی دھولوں کو چاٹا ہے اپنی نوک زباں سے اکثر اور ورق کے بائیں اور نیچے کی جانب پان کی پیک سے گیلا کر کے پلٹے گئے صفحوں پر ان کی شہادت کی انگلیوں کے نشاں پائے ہیں
کل رات جب اپنی زلفیں فضا میں بکھرا چکی تھی اور تھکا ہوا عالم اس کے گداز ابھاروں سے لپٹا سو رہا تھا میں بے خوابی کا مارا اپنے کمرے میں اس کی پنڈلیاں سہلا رہا تھا باتھ روم میں پانی کی اک ٹوٹی سے ٹپ ٹپ کی آواز آ رہی تھی میں نے سوچا پانی تو وقت کی علامت ہے یہ باتھ روم میں بوند بوند گر ...