مراجعت

شہروں کے شفاف بدن اور تہذیبوں کے سینوں پر
نیلی برا میں لپٹی متمدن چھاتیوں میں
جتنی کشش ہے اتنا دودھ نہیں ہے
چاند رنگ ڈھلوانوں پر
انسانوں کے آنسوؤں کا ایک بھی قطرہ
ٹھہر نہیں سکتا ہے آ کر
تو پھر ہم سب کیوں نہ چل کر
صحرا میں ہی رہا کریں اب