خاموشی سے ایک مکالمہ ملک احسان 07 ستمبر 2020 شیئر کریں خاموشی سے پوچھا میں نے کیوں آتی ہے پاس تو میرے آخر کیوں سمٹی رہتی ہے کیا رکھا ہے کیا ملتا ہے تجھ کو یہاں پر کچھ نہیں بولی چپ سی رہی اور دور تلک پھر پھیل گئی وہ