الگنی
ایک ہی پل میں اچٹ جاتی ہے یہ نیند مری ایک بجلی سی چمک جاتی ہے ان آنکھوں میں یک بیک تیز پھواریں جوں برس جاتی ہوں اور آنگن میں سکھانے کے لیے سب کپڑے تر بتر ہو کے لپٹ جاتے ہیں اک ڈوری سے ان کو موجود ہے اک ڈور بدن کی مانند تھرتھراتی ہوئی آتی ہے چلی جاتی ہے پر ہوا ان کو جدا کر نہیں سکتی ...