Malik Ehsan

ملک احسان

ملک احسان کی نظم

    الگنی

    ایک ہی پل میں اچٹ جاتی ہے یہ نیند مری ایک بجلی سی چمک جاتی ہے ان آنکھوں میں یک بیک تیز پھواریں جوں برس جاتی ہوں اور آنگن میں سکھانے کے لیے سب کپڑے تر بتر ہو کے لپٹ جاتے ہیں اک ڈوری سے ان کو موجود ہے اک ڈور بدن کی مانند تھرتھراتی ہوئی آتی ہے چلی جاتی ہے پر ہوا ان کو جدا کر نہیں سکتی ...

    مزید پڑھیے

    آئینہ

    میں نے اک سپنا دیکھا ہے رات کا سورج اپنی کالی زلفیں کھولے جاگ رہا ہے شہر میں سناٹا پسرا ہے چاند کی اجلی چادر تانے میں اپنے گھر میں سویا ہوں اتنے میں اک شور ہے اٹھتا شب خوں مارا شب خوں مارا دیکھو شیطاں پھر آ نکلے میں نے بھی سب اپنی متاع زہد و تقویٰ صبر و قناعت اور اعمال کی سونا ...

    مزید پڑھیے

    ناف پیالہ

    رات اک نیلے خواب میں میں نے پانی کی آمیزش سے گوندھے گئے گندمی رنگ میں اپنی محبوبہ کے جیسے دو نیم برہنہ جسم ہیں دیکھے پہلا خوشی کا دوجا غم کا صورت قامت اور بدن کے خد و خال بھی اک جیسے تھے بس دونوں میں ایک فرق تھا غم کے جسم میں پایا میں نے اک گہرا سا ناف پیالہ

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2