Malik Ehsan

ملک احسان

ملک احسان کی نظم

    از سر نو تشکیل

    حق صداقت اور حسن یہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئے مٹی کے اندر دبے ہوئے فاسلس ہیں آؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کر تجربہ گاہوں میں لے چلے اور ہو سکے تو ڈی این اے سے ان کی از سر نو تشکیل کریں

    مزید پڑھیے

    خواہش سے تمنا تک

    لال پیلی نیلی نیلی اور ہری خواہشوں کی جانے کتنی مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں میرے جار میں اور جب ان میں سے کوئی یک بیک اک تمنا بن کے باہر کودتی ہیں صاف ستھرے فرش پہ دم توڑتی ہے

    مزید پڑھیے

    نظم

    سخت سطح سے مٹی ہٹا کر گہری زمیں کے اندر جا کے جذب ہو چکے گدلے پانی کو اوپر لاتا ہوں پھر تشبیہوں علامتوں اور استعاروں کے برتن میں اس کو صاف و کشید کر کے اپنی پیاس بجھاتا ہوں اور دنیا کی تشنہ لبی بھی سیرابی حاصل کرتی ہے

    مزید پڑھیے

    مراجعت

    شہروں کے شفاف بدن اور تہذیبوں کے سینوں پر نیلی برا میں لپٹی متمدن چھاتیوں میں جتنی کشش ہے اتنا دودھ نہیں ہے چاند رنگ ڈھلوانوں پر انسانوں کے آنسوؤں کا ایک بھی قطرہ ٹھہر نہیں سکتا ہے آ کر تو پھر ہم سب کیوں نہ چل کر صحرا میں ہی رہا کریں اب

    مزید پڑھیے

    خاموشی سے ایک مکالمہ

    خاموشی سے پوچھا میں نے کیوں آتی ہے پاس تو میرے آخر کیوں سمٹی رہتی ہے کیا رکھا ہے کیا ملتا ہے تجھ کو یہاں پر کچھ نہیں بولی چپ سی رہی اور دور تلک پھر پھیل گئی وہ

    مزید پڑھیے

    نیند کا پھیر

    میری آنکھوں نے نئے نئے خوابوں کو تو دعوت دے دی ہے سو اپنے ہاتھوں کو پھر سے جنبش دوں گا جن پر آ کر ٹوٹ چکے ہیں نا جانے کتنے ہی حباب نیند کے پھیر نے کیا کر ڈالا جاگتی آنکھوں سے میں اب یہ سوچ رہا ہوں کیا ہوگا جب پلکوں پر مہمان آئیں گے میرے پاس سوائے وہی پرانے خوابوں کی روکھی سوکھی ...

    مزید پڑھیے

    کل سے تم اخبار نہ لانا

    صبح صبح اچھا لگتا ہے گھر سے نکل کر سیر کو جانا ٹھنڈی ٹھنڈی نرم ہواؤں کے ساگر میں منہ کو دھونا اور تر و تازہ ہو جانا لان میں بوگین ویلیا کی ڈالی پہ بلبل کا اترانا پھدک پھدک کر جھولے جانا لیکن جب اتنی ہی دیر میں مین گیٹ پر آ کر کوئی کاغذات کچھ دے جاتا ہے جن کے تحریری خنجر سے بیلے کی ...

    مزید پڑھیے

    نعم البدل

    مجھے معلوم ہے کہ کچھ نہ بدلے گا نہ شاخ ہجر پر آثار آئیں گے خزاؤں کے خیالوں کے سمندر میں نہ کچھ تبدیلی آئے گی نہ کرداروں کے روز و شب میں کوئی فرق آئے گا مگر ان نظموں غزلوں کی کہانی اور گیتوں کی آتی جاتی لہروں سے یہ میرا خشک ساحل سیراب تو ہوتا رہے مجھ کو میرے ہونے کا احساس تو ہوتا ...

    مزید پڑھیے

    میراث

    میں نے اپنے آبا کی کتابوں کو کاٹھ کی اونچی اور مضبوط المایوں سے نکال کر خوب پڑھا ہے ان کی خوشبو سونگھی ہے ان کی دھولوں کو چاٹا ہے اپنی نوک زباں سے اکثر اور ورق کے بائیں اور نیچے کی جانب پان کی پیک سے گیلا کر کے پلٹے گئے صفحوں پر ان کی شہادت کی انگلیوں کے نشاں پائے ہیں

    مزید پڑھیے

    پانی

    کل رات جب اپنی زلفیں فضا میں بکھرا چکی تھی اور تھکا ہوا عالم اس کے گداز ابھاروں سے لپٹا سو رہا تھا میں بے خوابی کا مارا اپنے کمرے میں اس کی پنڈلیاں سہلا رہا تھا باتھ روم میں پانی کی اک ٹوٹی سے ٹپ ٹپ کی آواز آ رہی تھی میں نے سوچا پانی تو وقت کی علامت ہے یہ باتھ روم میں بوند بوند گر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2