Majid Raza Ameer

ماجد رضا امیر

ماجد رضا امیر کی غزل

    ایک مصرعہ ہوا عطا مجھ کو

    ایک مصرعہ ہوا عطا مجھ کو شعر تجھ پر کہوں بتا مجھ کو رات بھر جاگنے کی عادت تھی اور پھر عشق ہو گیا مجھ کو اے شب غم کہیں ٹھکانہ کر اک ولی نے ہے دی دعا مجھ کو تو کہیں راکھ ہی نہ ہو جائے اس طرح ہاتھ مت لگا مجھ کو موسم ہجر جا خدا حافظ اس نے اپنا بنا لیا مجھ کو دشت گردی مرے وجود میں ...

    مزید پڑھیے

    خیرات بٹ رہی ہے محبت کے نام کی

    خیرات بٹ رہی ہے محبت کے نام کی بجھنے لگی ہے پیاس دل تشنہ کام کی دشمن کو میں نے پیار سے مفتوح کر لیا آ دیکھ دل کشی تو مرے انتقام کی مجھ کو خبر ہے اس لیے میں پوچھتا نہیں اوقات کیا ہے تیری نظر میں غلام کی کچھ تو پتہ چلے کہ گزاری ہے کس کے ساتھ جو شام تو نے رکھی تھی اک میرے نام کی کس ...

    مزید پڑھیے

    ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم

    ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم فریب جہاں میں گرفتار ہیں ہم ہمارے لہو سے یہ مقتل سجا ہے مگر اس کہانی میں اک بار ہیں ہم دل مضطرب کی خدارا سنو کچھ نگاہ ستم میں کہاں یار ہیں ہم ہماری رگوں میں ہے خوں انقلابی شب ظلم کے آگے دیوار ہیں ہم نہ آئیں گے ہم دسترس میں تمہاری زمیں آسماں سے بہت پار ...

    مزید پڑھیے

    مجھ سے محبوب جدا ہے تو کوئی بات نہیں

    مجھ سے محبوب جدا ہے تو کوئی بات نہیں دل لگانے کی سزا ہے تو کوئی بات نہیں کج ادا یار ملا ہے تو کوئی بات نہیں یہ وفا ہی کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں میری صورت سے پریشان بہت رہتا تھا آئینہ ٹوٹ گیا ہے تو کوئی بات نہیں بعد میرے مری چاہت کی مثالیں دو گے آج دل میرا جلا ہے تو کوئی بات ...

    مزید پڑھیے

    میں دشمن کو جو عزت دے رہا ہوں

    میں دشمن کو جو عزت دے رہا ہوں اسے درس محبت دے رہا ہوں وہ مجھ پر یار کہہ کر وار کر دے میں قاتل کو اجازت دے رہا ہوں وہ غم سارے زمانے سے جدا ہے جسے دل کی حکومت دے رہا ہوں غم جاناں سدا تو رہ سلامت دعائے استقامت دے رہا ہوں یہ دل تیرے ستم پر بھی ہے خنداں اسے داد شجاعت دے رہا ہوں مرا ...

    مزید پڑھیے

    تیرے دل میں جہاں میں بیٹھا ہوں

    تیرے دل میں جہاں میں بیٹھا ہوں دکھ ہے سب کو کہاں میں بیٹھا ہوں منتظر جان جاں میں بیٹھا ہوں آ بھی جا مہرباں میں بیٹھا ہوں رونقیں آپ سے تھیں محفل میں کس نے دیکھا وہاں میں بیٹھا ہوں تیرے جانے سے بجھ گیا دل بھی اب یہاں رائیگاں میں بیٹھا ہوں اپنے یاروں سے دشمنی کیسی کس لئے بد گماں ...

    مزید پڑھیے

    چلو ابھی پس دیوار دیکھ لیتے ہیں

    چلو ابھی پس دیوار دیکھ لیتے ہیں جہان خاک کے اس پار دیکھ لیتے ہیں سحر کے ہوتے ہی رخت سفر جو باندھتے ہیں چراغ صبح کے آثار دیکھ لیتے ہیں ہم اپنی راہ سے جوں ہی بھٹکنے لگتے ہیں تو پھر بزرگوں کی دستار دیکھ لیتے ہیں تمہاری آنکھ کے پیچھے جو سب مناظر ہیں تمہیں خبر نہیں ہم یار دیکھ لیتے ...

    مزید پڑھیے

    اب کہاں لوگ وہ گرتوں کو اٹھانے والے

    اب کہاں لوگ وہ گرتوں کو اٹھانے والے کیسے بدلیں ہیں ترے بعد زمانے والے اپنی یادوں کے نگر سے تو نکالو مجھ کو تختیٔ دل سے مرا نام مٹانے والے رکھ لیا کچھ تو بھرم یار اجل نے تیرا ہم ترے خط تھے سبھی آج جلانے والے ایک شاعر کی محبت میں مگن ہے لڑکی نام لیتے ہیں ترا بات بتانے والے چن لیا ...

    مزید پڑھیے