تیرے دل میں جہاں میں بیٹھا ہوں

تیرے دل میں جہاں میں بیٹھا ہوں
دکھ ہے سب کو کہاں میں بیٹھا ہوں


منتظر جان جاں میں بیٹھا ہوں
آ بھی جا مہرباں میں بیٹھا ہوں


رونقیں آپ سے تھیں محفل میں
کس نے دیکھا وہاں میں بیٹھا ہوں


تیرے جانے سے بجھ گیا دل بھی
اب یہاں رائیگاں میں بیٹھا ہوں


اپنے یاروں سے دشمنی کیسی
کس لئے بد گماں میں بیٹھا ہوں


راکھ ہونے کو ہے مری ہستی
ہو کے شعلہ فشاں میں بیٹھا ہوں


مجھ کو جلدی نہیں ہے جانے کی
تم کہو داستاں میں بیٹھا ہوں


اپنے پہلو میں آسماں لے کر
دیکھ لے اے زماں میں بیٹھا ہوں