Majid Raza Ameer

ماجد رضا امیر

ماجد رضا امیر کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    ایک مصرعہ ہوا عطا مجھ کو

    ایک مصرعہ ہوا عطا مجھ کو شعر تجھ پر کہوں بتا مجھ کو رات بھر جاگنے کی عادت تھی اور پھر عشق ہو گیا مجھ کو اے شب غم کہیں ٹھکانہ کر اک ولی نے ہے دی دعا مجھ کو تو کہیں راکھ ہی نہ ہو جائے اس طرح ہاتھ مت لگا مجھ کو موسم ہجر جا خدا حافظ اس نے اپنا بنا لیا مجھ کو دشت گردی مرے وجود میں ...

    مزید پڑھیے

    خیرات بٹ رہی ہے محبت کے نام کی

    خیرات بٹ رہی ہے محبت کے نام کی بجھنے لگی ہے پیاس دل تشنہ کام کی دشمن کو میں نے پیار سے مفتوح کر لیا آ دیکھ دل کشی تو مرے انتقام کی مجھ کو خبر ہے اس لیے میں پوچھتا نہیں اوقات کیا ہے تیری نظر میں غلام کی کچھ تو پتہ چلے کہ گزاری ہے کس کے ساتھ جو شام تو نے رکھی تھی اک میرے نام کی کس ...

    مزید پڑھیے

    ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم

    ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم فریب جہاں میں گرفتار ہیں ہم ہمارے لہو سے یہ مقتل سجا ہے مگر اس کہانی میں اک بار ہیں ہم دل مضطرب کی خدارا سنو کچھ نگاہ ستم میں کہاں یار ہیں ہم ہماری رگوں میں ہے خوں انقلابی شب ظلم کے آگے دیوار ہیں ہم نہ آئیں گے ہم دسترس میں تمہاری زمیں آسماں سے بہت پار ...

    مزید پڑھیے

    مجھ سے محبوب جدا ہے تو کوئی بات نہیں

    مجھ سے محبوب جدا ہے تو کوئی بات نہیں دل لگانے کی سزا ہے تو کوئی بات نہیں کج ادا یار ملا ہے تو کوئی بات نہیں یہ وفا ہی کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں میری صورت سے پریشان بہت رہتا تھا آئینہ ٹوٹ گیا ہے تو کوئی بات نہیں بعد میرے مری چاہت کی مثالیں دو گے آج دل میرا جلا ہے تو کوئی بات ...

    مزید پڑھیے

    میں دشمن کو جو عزت دے رہا ہوں

    میں دشمن کو جو عزت دے رہا ہوں اسے درس محبت دے رہا ہوں وہ مجھ پر یار کہہ کر وار کر دے میں قاتل کو اجازت دے رہا ہوں وہ غم سارے زمانے سے جدا ہے جسے دل کی حکومت دے رہا ہوں غم جاناں سدا تو رہ سلامت دعائے استقامت دے رہا ہوں یہ دل تیرے ستم پر بھی ہے خنداں اسے داد شجاعت دے رہا ہوں مرا ...

    مزید پڑھیے

تمام