مجھ سے محبوب جدا ہے تو کوئی بات نہیں
مجھ سے محبوب جدا ہے تو کوئی بات نہیں
دل لگانے کی سزا ہے تو کوئی بات نہیں
کج ادا یار ملا ہے تو کوئی بات نہیں
یہ وفا ہی کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں
میری صورت سے پریشان بہت رہتا تھا
آئینہ ٹوٹ گیا ہے تو کوئی بات نہیں
بعد میرے مری چاہت کی مثالیں دو گے
آج دل میرا جلا ہے تو کوئی بات نہیں
اپنی روداد محبت میں سناؤں کس کو
چارہ گر بھول رہا ہے تو کوئی بات نہیں
اپنی یادوں کے سہارے تو نہ چھنیو مجھ سے
سانحہ ہو ہی گیا ہے تو کوئی بات نہیں
اب تو عامرؔ کے ستارے بھی بجھے رہتے ہیں
یہ مقدر کا لکھا ہے تو کوئی بات نہیں