ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم

ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم
فریب جہاں میں گرفتار ہیں ہم


ہمارے لہو سے یہ مقتل سجا ہے
مگر اس کہانی میں اک بار ہیں ہم


دل مضطرب کی خدارا سنو کچھ
نگاہ ستم میں کہاں یار ہیں ہم


ہماری رگوں میں ہے خوں انقلابی
شب ظلم کے آگے دیوار ہیں ہم


نہ آئیں گے ہم دسترس میں تمہاری
زمیں آسماں سے بہت پار ہیں ہم


ہمارے ہے دم سے چراغاں جہاں میں
خدا کی خدائی کا شہکار ہیں ہم


کسی حوصلے کی ضرورت نہیں ہے
اگرچہ ہزیمت سے دو چار ہیں ہم


نمود سحر کی ہے امید ہم سے
صلائے سخن کے بھی سالار ہیں ہم


رہے گا ہمارا سدا نام امبرؔ
سنو زندگی کے وہ آثار ہیں ہم