چلو ابھی پس دیوار دیکھ لیتے ہیں

چلو ابھی پس دیوار دیکھ لیتے ہیں
جہان خاک کے اس پار دیکھ لیتے ہیں


سحر کے ہوتے ہی رخت سفر جو باندھتے ہیں
چراغ صبح کے آثار دیکھ لیتے ہیں


ہم اپنی راہ سے جوں ہی بھٹکنے لگتے ہیں
تو پھر بزرگوں کی دستار دیکھ لیتے ہیں


تمہاری آنکھ کے پیچھے جو سب مناظر ہیں
تمہیں خبر نہیں ہم یار دیکھ لیتے ہیں


رفاقتوں میں بڑے مان رکھے جاتے ہیں
سو دوستوں کو کئی بار دیکھ لیتے ہیں


کئی برس سے زمانے کے ساتھ ہیں امبرؔ
ہم اب زمانے کی رفتار دیکھ لیتے ہیں