میں دشمن کو جو عزت دے رہا ہوں
میں دشمن کو جو عزت دے رہا ہوں
اسے درس محبت دے رہا ہوں
وہ مجھ پر یار کہہ کر وار کر دے
میں قاتل کو اجازت دے رہا ہوں
وہ غم سارے زمانے سے جدا ہے
جسے دل کی حکومت دے رہا ہوں
غم جاناں سدا تو رہ سلامت
دعائے استقامت دے رہا ہوں
یہ دل تیرے ستم پر بھی ہے خنداں
اسے داد شجاعت دے رہا ہوں
مرا قصہ نہایت مختصر ہے
کہانی کو طوالت دے رہا ہوں
صدائے کن کہاں میں نے سنی تھی
مگر اس کی شہادت دے رہا ہوں