Maikash Akbarabadi

میکش اکبرآبادی

میکش اکبرآبادی کی نظم

    بھکارن

    پوپلا منہ ہل رہا ہے جھریوں کے ساتھ ساتھ بوجھ لاٹھی کا لئے تھرا رہا ہے نرم ہاتھ ملگجی ساڑی کے دامن میں ہے تھیلی پان کی سہہ رہی ہے گالیاں دہلیز پر دربان کی یاس سے جھکتی ہے دروازے سے ٹکرا کر نظر مانگتی ہے ایک پیسہ وہ بھی اللہ نام پر اس جہاں میں کوئی اس کا پالنے والا نہیں اس کے منہ ...

    مزید پڑھیے

    اقبالؔ

    سونے والوں کو پیام صبح نو دیتی ہوئی خواب کی دنیا اٹھی انگڑائیاں لیتی ہوئی مطلع مشرق پہ چمکا آفتاب‌ شاعری ہر کرن جس کی بنی تار رباب شاعری دل پہ تھا جو داغ غفلت اس کو آہیں دھو گئیں خون مشرق میں ہزاروں بجلیاں حل ہو گئیں ضبط کے زخم نہاں فریاد سے بھرنے لگے یعنی بندے بھی خدا سے ...

    مزید پڑھیے

    اقبال کا شعر

    ایمان کی تفسیر قلندر کا ترانہ سمجھے تو پلٹ آئے بلندی پہ زمانہ بے باک نگاہوں کا فلک بوس اشارہ سنگین چٹانوں سے گزرتا ہوا دھارا بے تابئ فطرت کی سکوں بخش کہانی شعلوں سے بنائی ہوئی شبنم کی روانی اشکوں میں نہائی ہوئی اک موج تبسم ملاح کا گرداب میں جس طرح ترنم الہام میں تکمیل حقیقت ...

    مزید پڑھیے

    عید

    اے جمال دوست تیری دید ہونی چاہئے غم زدوں کی بھی تو آخر عید ہونی چاہئے جب نہیں ہے آپ کو ترک تعلق کا خیال آپ ہی کے قول سے تردید ہونی چاہئے مانتا ہوں میں کہ بے شک قول کے سچے ہیں آپ لیکن اپنے عہد کی تجدید ہونی چاہئے میری جانب سے سہی تحریک تکمیل وفا لیکن اس کو آپ کی تائید ہونی ...

    مزید پڑھیے

    ولیؔ

    اے دکن کی سر زمیں اے قبلۂ ہندوستاں تیرے ذرے مہر ہیں تیری زمیں ہے آسماں عظمت ماضی کا دل افروز نظارہ ہے تو مشرق‌ تہذیب کا پاکیزہ گہوارہ ہے تو تیرے ہر پہلو میں ہیں احساس کی بیداریاں تیرے ہر منظر میں ہیں جذبات کی سرشاریاں ہے خزاں نا آشنا تیرے گلستاں کی بہار تجھ پہ ہے سایہ فگن ...

    مزید پڑھیے

    اندھا

    سنتا ہے حسن شمس و قمر دیکھتا نہیں یعنی نظام شام و سحر دیکھتا نہیں اس کے بھی پیرہن پہ گناہوں کے داغ ہیں دنیا کو چاہتا ہے مگر دیکھتا نہیں اس کو بھی ہیں نصیب محبت کی لذتیں دل تھامتا ہے تیر نظر دیکھتا نہیں اس کے بھی دل میں آگ بھڑکتی ہے عشق کی جلتا ہے اور رقص شرر دیکھتا نہیں اس کے ...

    مزید پڑھیے

    ڈاکٹر زورؔ سے

    تو نے کی تخلیق اے محو خرام جستجو قطرۂ خون جگر سے کائنات رنگ و بو اپنی دل سوزی سے ذرہ کو بنایا آفتاب تو نے الٹا روئے مستقبل سے ماضی کا نقاب تیری بیتابی نہیں آلودۂ نام و نمود زندگی کو اک پیام مستقل تیرا وجود وہم باطل ہے ترے احساس کو خواب گراں تیرے ہر اک سانس کی قیمت ہے عمر ...

    مزید پڑھیے

    داغؔ

    ہے اب تک سحر سا چھایا تری جادو نوائی کا دل اردو پہ اب تک داغ ہے تیری جدائی کا زبان شعر سے اب بھی تری آواز سنتا ہوں جو نکلا تھا تری مضراب سے وہ ساز سنتا ہوں تغزل کو تری رنگیں نوائیں یاد ہیں اب تک ترے نغموں سے دل کی بستیاں آباد ہیں اب تک دلوں کو اب بھی چمکاتی ہے شمع آرزو تیری لب ...

    مزید پڑھیے

    ٹیگور محبت کا فرشتہ

    بانسری کی لے پہ جیسے جاگتے تاروں کا ناچ سردیوں کی کپکپی کو چوم لے جس طرح آنچ چاندنی کی کروٹیں جیسے اندھیری رات میں جیسے ندی کی روانی آخری برسات میں جیسے لہریں چھیڑ دیں دھیمے سروں میں جل ترنگ جیسے کلیوں میں سما جائے بہاروں کی امنگ بن کی خاموشی میں جیسے مست کوئل کی پکار آسماں ...

    مزید پڑھیے

    مزدور

    ہے تیرے سر پہ قناعت کا تاج اے مزدور کہ تیرے سامنے ہوتا ہے خم سر مغرور ہر ایک سانس ہے تیری شکست کی آواز ترے سکون میں لیکن ہیں فتح کے انداز ہے تیرے رنگ میں پژمردہ حسرتوں کا ہجوم مگر کسی نے بھی دیکھا نہیں تجھے مغموم ترے عقیدے میں غفلت ہے اک گناہ عظیم تجھے جگانی ہے سورج کے ساتھ موج ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2