ڈاکٹر زورؔ سے

تو نے کی تخلیق اے محو خرام جستجو
قطرۂ خون جگر سے کائنات رنگ و بو


اپنی دل سوزی سے ذرہ کو بنایا آفتاب
تو نے الٹا روئے مستقبل سے ماضی کا نقاب


تیری بیتابی نہیں آلودۂ نام و نمود
زندگی کو اک پیام مستقل تیرا وجود


وہم باطل ہے ترے احساس کو خواب گراں
تیرے ہر اک سانس کی قیمت ہے عمر جاوداں


تیری ہر جنبش میں ہے راز نظام کائنات
تیری ہر کاوش سے پاتا ہے نمو رنگ حیات


کار گاہ زندگی میں تیری فطرت آبشار
تیری سیرت نہر شیریں تیری ہمت کوہسار


فیض‌ مہر و ماہ تیرے جلوۂ ایثار میں
سوز و ساز آرزو تیرے دل بیدار میں


ہیں ثبوت جذبۂ خدمت ترے سینے کے داغ
پھر ہوا روشن دکن میں تجھ سے اردو کا چراغ


کیوں نہ اتراؤں کہ اب اپنا دلستاں کھل گیا
بوئے گل آنے لگی باب گلستاں کھل گیا


ذرہ ذرہ کو دکن کے درخور پیغام کر
اے پرستار وطن اپنے وطن کا نام کر