Maikash Akbarabadi

میکش اکبرآبادی

میکش اکبرآبادی کی نظم

    ہولی

    ایک عورت کی زبان سے چل مری سندر سہیلی ہم کہیں چھپ جائیں گے آج ہے ہولی کا دن پیتم مرے گھر آئیں گے سامنے جب میں نہ آؤں گی بہت گھبرائیں گے ہر جگہ ڈھونڈیں گے مجھ کو ڈھونڈھ کر شرمائیں گے سامنے آ جاؤں گی پیتم کے خوش ہو جائیں گے ان میں میں کھو جاؤں گی اور مجھ میں وہ کھو جائیں گے میرے من ...

    مزید پڑھیے

    جامعہ‌ عثمانیہ

    اے کہ تیری خدمتیں سرمایہ دار علم ہیں تیرا مقصد زیست کا آغاز خوش‌ انجام ہے اے کہ تیری جدتیں آئینہ دار علم ہیں دائمی تسکیں زمانے کو ترا پیغام ہے تیرے پیکر میں نہاں ہے خواہش اوج کمال ہے تری تعمیر میں علم و عمل کی کائنات تیرے سینے میں ہے مضطر جنبش موج خیال چشمۂ بخشش ہے تیرا چشمۂ ...

    مزید پڑھیے

    کسان

    برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں مگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں گیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے تصورات کی دنیا بھی ساتھ لایا ہے ہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر سیاہ ابر پہ رہ رہ کر اٹھ رہی ہے نظر پڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں ہیں اس کی زیست کے اسرار پا ...

    مزید پڑھیے

    سراج اورنگ آبادی

    جبین زیست پہ مرقوم ہے مری آواز کہ تو نے زندہ کئے حسن و عشق کے اعجاز بدل بدل کے تری دھڑکنوں کو نام ملا کبھی نوائے حقیقت نوائے مجاز تری صدائے محبت نے فاش کر ڈالا وہ راز حشر جو رکھتا ہے ایک محشر راز نشان راہ کہیں زندگی کے نقش قدم کہیں حیات کے روندے ہوئے نشیب و فراز کبھی تو اشک میں ...

    مزید پڑھیے

    گوتم بدھ

    اک جنازے کو اٹھائے جا رہے تھے چند لوگ تم نے پوچھا کیا ہوا کیوں جا رہے ہو تم ملول تم کو لوگوں نے بتایا مر گیا ہے ایک شخص اور یوں مرتے ہیں ناداں ہوں کہ ارباب عقول مانگنے کو چند پیسے پیٹ بھرنے کے لئے جا رہا تھا راستے سے ایک بے بیچارہ فقیر تم نے دیکھا کوئی اس کا پوچھنے والا نہیں تھا ...

    مزید پڑھیے

    کشمیر

    یہاں خواب سکوں پرور میں بھی بیداریاں دیکھیں یہاں ہر ہوشیاری میں نئی سرشاریاں دیکھیں یہاں کی گھاٹیوں میں حسن کے چشمے ابلتے ہیں یہاں ہر چیز پر جذبات انسانی مچلتے ہیں پریشاں منظری میں بھی یہاں فطرت سنورتی ہے خموشی میں بھی اک موج ترنم رقص کرتی ہے وہ شالیمار کی رنگینیوں میں حسن ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2