Maikash Akbarabadi

میکش اکبرآبادی

میکش اکبرآبادی کی غزل

    یہ مانا زندگی میں غم بہت ہیں

    یہ مانا زندگی میں غم بہت ہیں ہنسے بھی زندگی میں ہم بہت ہیں تری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوست مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں نہیں ہے منحصر کچھ فصل گل پر جنوں کے اور بھی موسم بہت ہیں غبار آلودہ چہروں پر نہ جانا انہیں میں کیقباد و جم بہت ہیں مجھے کچھ ساز ہے نشتر سے ورنہ مرے زخموں ...

    مزید پڑھیے

    مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا

    مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا یہاں تو ہو رہی ہے داستاں سے داستاں پیدا وہی ہے ایک مستی سی وہاں نظروں میں یاں دل میں وہی ہے ایک شورش ہی وہاں پنہاں یہاں پیدا تو اپنا کارواں لے چل نہ کر غم میرے ذروں کا انہیں ذروں سے ہو جائے گا پھر سے کارواں پیدا مری عمریں سمٹ آئی ہیں ان کے ...

    مزید پڑھیے

    یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے

    یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے کدھر چلے ہیں اندھیرے یہ ہاتھ پھیلائے خدا کرے کوئی شمعیں لیے چلا آئے دھڑک رہے ہیں مرے دل میں شام کے سائے کہاں وہ اور کہاں میری پر خطر راہیں مگر وہ پھر بھی مرے ساتھ دور تک آئے میں اپنے عہد میں شمع مزار ہو کے رہا کبھی نہ دیکھ سکے مجھ کو میرے ہم ...

    مزید پڑھیے