مہناز انجم کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    ستارے کی سجل جھلمل کے ریشم سے بنی میں

    ستارے کی سجل جھلمل کے ریشم سے بنی میں ہجوم خلق دو رویا کھڑا ہے اور چلی میں یہ جو صحراؤں کے ابعاد آنکھوں میں کھلے ہیں بگولوں کو بھلی لگنے لگی ہوں ہجرتی میں میں سوتی رہ گئی بیدار لمحے کے عمق میں کوئی خوابیدہ ساعت تھی کہ جس میں جاگتی میں کئی صحرا تھے میری پیاس کی پہنائیوں میں کسی ...

    مزید پڑھیے

    حرف کو پھول بناتے ہوئے اتراتی ہوں

    حرف کو پھول بناتے ہوئے اتراتی ہوں میں تجھے اپنا بتاتے ہوئے اتراتی ہوں ساحل وقت پہ چلتے ہوئے دیکھا تم نے نقش پا اپنے بناتے ہوئے اتراتی ہوں ہے کوئی خوابچہ کب سے مری انگلی تھامے میں اسے چلنا سکھاتے ہوئے اتراتی ہوں اتر آتی ہیں مری چھت پہ ہنستی راتیں اور میں چاند اڑاتے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    یہ پانی ساعتوں کا آئینے سا کیوں نہیں ہے

    یہ پانی ساعتوں کا آئینے سا کیوں نہیں ہے ندی سے آسمانی رنگ جھلکا کیوں نہیں ہے مری راتوں کو جس جگنوں کی اتنی آرزو تھی وہ میری جستجو میں جلتا بجھتا کیوں نہیں ہے میں مڑنے دوں گی اس کو اجنبی منزل کی جانب وہ میرے خون میں بہتا ہے میرا کیوں نہیں ہے تعجب ہے کہ میں رستے بنانے میں لگی ...

    مزید پڑھیے

    اس خواب کی ندی کی روانی میں کہیں ہو

    اس خواب کی ندی کی روانی میں کہیں ہو پانی مجھے کہتا ہے کہ پانی میں کہیں ہو تم پیڑ کا کردار نبھانے چلے آئے تم دھوپ کی صورت بھی کہانی میں کہیں ہو یہ موسم سرسبز یہ کھلتی ہوئی یادیں دل کہتا ہے تم رات کی رانی میں کہیں ہو یاروں میں محبت نہیں موجود ذرا بھی یہ بات کسی دشمن جانی میں کہیں ...

    مزید پڑھیے

    آنکھ بھر آئی ہے میری سیلے سیلے لفظ ہیں

    آنکھ بھر آئی ہے میری سیلے سیلے لفظ ہیں یہ مری روداد میرے گیلے گیلے لفظ ہیں وصل خوش امکان کو بھولا نہیں وہ ہجرتی کیسری نامے ہیں جن میں نیلے نیلے لفظ ہیں دیکھ لے تو کھول کر اپنی یہ زنبیل سخن اور تو کچھ بھی نہیں کڑوے کسیلے لفظ ہیں زندگی کڑوی ہے پر خوش ذائقہ میرا کہا ہونٹ رکھ کر ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    تاگا تاگا مجھے کون کھولے

    سربسر اک الجھتی پہیلی ہوں اور میری الجھن کی سلجھن بھی دشوار ہے تاگا تاگا مجھے کون کھولے مجھے رنگ در رنگ اور حرف در حرف پرکھے کہیں ایسی چشم فسوں کار ہے تو بتاؤ اے مری بے دلی کے شکستہ کنارو مرے خواب ہستی کے موہوم ریشم کو کس دھوپ کی زرد دیمک نے چاٹا کون سی خواہشوں کی ہری ٹہنیوں ...

    مزید پڑھیے

    بہت لڑتے ہو تم

    بہت لڑتے ہو تم میں بھی تنک تابی میں خاصی فرد ہوں سو خوب جمتی ہے بہم اپنی میں مشکل راستوں کی گرد پلکوں پر سنبھالے آئی ہوں تم تک مرے نزدیک کے ہر منطقے میں تم بھی اپنے بالوں کی چاندی پہ اتراتے پراگندہ مزاجی میں گندھے اکھڑے ہوئے تاروں کی پگڈنڈی کے دل میں گھومتے ہو محبت کی بھڑک لفظوں ...

    مزید پڑھیے