آنکھ بھر آئی ہے میری سیلے سیلے لفظ ہیں
آنکھ بھر آئی ہے میری سیلے سیلے لفظ ہیں
یہ مری روداد میرے گیلے گیلے لفظ ہیں
وصل خوش امکان کو بھولا نہیں وہ ہجرتی
کیسری نامے ہیں جن میں نیلے نیلے لفظ ہیں
دیکھ لے تو کھول کر اپنی یہ زنبیل سخن
اور تو کچھ بھی نہیں کڑوے کسیلے لفظ ہیں
زندگی کڑوی ہے پر خوش ذائقہ میرا کہا
ہونٹ رکھ کر دیکھ لے میٹھے رسیلے لفظ ہیں
شعر کی محفل میں سب سے مختلف میری غنا
کانچ جیسا حلق ہے اور سب سریلے لفظ ہیں
ایک دو مہناز انجمؔ ہوں گلابی پھول بھی
دھیان کی ٹہنی پہ کتنے پیلے پیلے لفظ ہیں