ستارے کی سجل جھلمل کے ریشم سے بنی میں
ستارے کی سجل جھلمل کے ریشم سے بنی میں ہجوم خلق دو رویا کھڑا ہے اور چلی میں یہ جو صحراؤں کے ابعاد آنکھوں میں کھلے ہیں بگولوں کو بھلی لگنے لگی ہوں ہجرتی میں میں سوتی رہ گئی بیدار لمحے کے عمق میں کوئی خوابیدہ ساعت تھی کہ جس میں جاگتی میں کئی صحرا تھے میری پیاس کی پہنائیوں میں کسی ...