تاگا تاگا مجھے کون کھولے
سربسر اک الجھتی پہیلی ہوں اور میری الجھن کی سلجھن بھی دشوار ہے تاگا تاگا مجھے کون کھولے مجھے رنگ در رنگ اور حرف در حرف پرکھے کہیں ایسی چشم فسوں کار ہے تو بتاؤ اے مری بے دلی کے شکستہ کنارو مرے خواب ہستی کے موہوم ریشم کو کس دھوپ کی زرد دیمک نے چاٹا کون سی خواہشوں کی ہری ٹہنیوں ...