مہناز انجم کی نظم

    تاگا تاگا مجھے کون کھولے

    سربسر اک الجھتی پہیلی ہوں اور میری الجھن کی سلجھن بھی دشوار ہے تاگا تاگا مجھے کون کھولے مجھے رنگ در رنگ اور حرف در حرف پرکھے کہیں ایسی چشم فسوں کار ہے تو بتاؤ اے مری بے دلی کے شکستہ کنارو مرے خواب ہستی کے موہوم ریشم کو کس دھوپ کی زرد دیمک نے چاٹا کون سی خواہشوں کی ہری ٹہنیوں ...

    مزید پڑھیے

    بہت لڑتے ہو تم

    بہت لڑتے ہو تم میں بھی تنک تابی میں خاصی فرد ہوں سو خوب جمتی ہے بہم اپنی میں مشکل راستوں کی گرد پلکوں پر سنبھالے آئی ہوں تم تک مرے نزدیک کے ہر منطقے میں تم بھی اپنے بالوں کی چاندی پہ اتراتے پراگندہ مزاجی میں گندھے اکھڑے ہوئے تاروں کی پگڈنڈی کے دل میں گھومتے ہو محبت کی بھڑک لفظوں ...

    مزید پڑھیے