ستارے کی سجل جھلمل کے ریشم سے بنی میں

ستارے کی سجل جھلمل کے ریشم سے بنی میں
ہجوم خلق دو رویا کھڑا ہے اور چلی میں


یہ جو صحراؤں کے ابعاد آنکھوں میں کھلے ہیں
بگولوں کو بھلی لگنے لگی ہوں ہجرتی میں


میں سوتی رہ گئی بیدار لمحے کے عمق میں
کوئی خوابیدہ ساعت تھی کہ جس میں جاگتی میں


کئی صحرا تھے میری پیاس کی پہنائیوں میں
کسی دریا کے تٹ تک آ کے پھر واپس مڑی میں


یہ تم جو کیسری نیلا بنفسی ڈھونڈتے ہو
تمہیں یہ رنگ مل سکتے ہیں پر میری ہنسی میں


کسی رہرو میں اتنا دم نہیں آئے دھم کو
پچھل پیری کوئی پھرتی ہے خواہش کی گلی میں


یہ لے کاری یہ گرداب غنا یہ احمریں سر
کسی کے ہونٹ گھل کر آ رہے ہیں بانسری میں


ضروری تھا کہ دل کے پیچ و خم پر آنکھ پڑتی
پتا تیرا بھلا لوگوں سے کیسے پوچھتی میں


کھنک اٹھتی ہے رہ رہ کر مری آواز مہنازؔ
بہت نم ساز مٹی گوندھ کر شاید بنی میں