اس خواب کی ندی کی روانی میں کہیں ہو

اس خواب کی ندی کی روانی میں کہیں ہو
پانی مجھے کہتا ہے کہ پانی میں کہیں ہو


تم پیڑ کا کردار نبھانے چلے آئے
تم دھوپ کی صورت بھی کہانی میں کہیں ہو


یہ موسم سرسبز یہ کھلتی ہوئی یادیں
دل کہتا ہے تم رات کی رانی میں کہیں ہو


یاروں میں محبت نہیں موجود ذرا بھی
یہ بات کسی دشمن جانی میں کہیں ہو


ٹھہرے ہوئے پل میں جو سکوں ڈھونڈ رہی ہوں
ممکن ہے کسی نقل مکانی میں کہیں ہو


یہ کون دھنک لایا مرے دل کے افق پر
لگتا ہے کہ تم رنگ رسانی میں کہیں ہو