Mahmood Beg Saaz

محمود بیگ ساز

  • 1922

محمود بیگ ساز کی غزل

    رباب دل کا ہر اک تار چھین لو مجھ سے

    رباب دل کا ہر اک تار چھین لو مجھ سے جو ہو سکے تو مرا پیار چھین لو مجھ سے امید و حسرت و ارمان و یاس و رنج و الم یہی ہیں میرے مددگار چھین لو مجھ سے قدم ملا کے چلو راہ عشق میں ورنہ مرا چلن مری رفتار چھین لو مجھ سے مجھے نہیں ہے گوارا نوازش بیجا مری محبت خوددار چھین لو مجھ سے تمہیں ...

    مزید پڑھیے

    بھرپور محبت کا اعلان مکمل ہے

    بھرپور محبت کا اعلان مکمل ہے اس نیم نگاہی کا فرمان مکمل ہے یا دشمن جاں مجھ پر سچ مچ ہے کرم فرما یا میری تباہی کا سامان مکمل ہے کس چاؤ سے اک بستی جو ہم نے بسائی تھی دیکھا تھا وہی بستی ویران مکمل ہے زخموں پہ مرے تو نے جس طرح نمک چھڑکا اس نیم عنایت کا احسان مکمل ہے ہر موڑ پہ ملتا ...

    مزید پڑھیے

    غم الفت نے لطف زندگی کی آبرو رکھ لی

    غم الفت نے لطف زندگی کی آبرو رکھ لی یہ وہ دشمن ہے جس نے دوستی کی آبرو رکھ لی سیہ زلفوں نے لہرا کر نکھارا حسن چہرے کا اندھیروں نے بکھر کر روشنی کی آبرو رکھ لی ہنسی آ تو رہی ہے دل کے زخموں کو یہ کیا کم ہے ترے بخشے ہوئے غم نے خوشی کی آبرو رکھ لی نگاہ ناز کے انداز تو دیکھو کہ چپکے ...

    مزید پڑھیے

    موج ابھری آ گئی ساحل کے ہاتھ

    موج ابھری آ گئی ساحل کے ہاتھ میں چلا اور جا لگا منزل کے ہاتھ اک تڑپ جو آ گئی بسمل کے ہاتھ کیوں نہ چومے بڑھ کے وہ بسمل کے ہاتھ در حقیقت موت کا پیغام ہے نا خدائی اور نا قابل کے ہاتھ ہاتھ چھوٹے پڑ گئے انصاف کے اتنے لمبے تھے مرے قاتل کے ہاتھ گھونٹ دیجے قابلیت کا گلا کیجئے مضبوط نا ...

    مزید پڑھیے

    اپنے ہی گھر میں یوں ہے مجھے اپنے گھر کی قید

    اپنے ہی گھر میں یوں ہے مجھے اپنے گھر کی قید درکار جیسے چھت کو ہو دیوار و در کی قید یوں زندگی کے ساتھ رہی عمر بھر کی قید لازم ہو جیسے بہر نظارہ نظر کی قید آزاد ہو کے اپنا اثر ڈھونڈھتی پھرے منظور گر نہیں ہے دعا کو اثر کی قید اس دہر کے ازل سے یہ لیل و نہار ہیں سورج کو دن کی چاند کو ہے ...

    مزید پڑھیے

    دن کے سینہ پہ رات کا پتھر

    دن کے سینہ پہ رات کا پتھر کس کے ہے التفات کا پتھر روک دیتا ہے بڑھتے قدموں کو ہو کے حائل حیات کا پتھر سنگ بنیاد ہے محبت کا یا مری کائنات کا پتھر مجھ کو دنیا نے آزمایا ہے پھینک کر حادثات کا پتھر ٹکڑے ٹکڑے صفات کی مورت ریزہ ریزہ ہے ذات کا پتھر ہے یہ امداد باہمی کا بھون پانچ کی ...

    مزید پڑھیے

    جب عقل نے کر ڈالا جذبات سے سمجھوتہ

    جب عقل نے کر ڈالا جذبات سے سمجھوتہ ہم کیوں نہ کریں اپنے حالات سے سمجھوتہ جینے کے لیے آخر کرنا ہی پڑا مجھ کو دن رات کی گردش میں دن رات سے سمجھوتہ حالات بدلنے میں کچھ دیر نہیں لگتی بہتر ہے ابھی کر لیں حالات سے سمجھوتہ جب اس نے جھلک دیکھی پستی میں بلندی کی سورج نے کیا بڑھ کر ذرات ...

    مزید پڑھیے

    جو اپنی زباں پر ہے قصہ پرایا

    جو اپنی زباں پر ہے قصہ پرایا وہ ہے تیرا اپنا نشانہ پرایا ذرا کوئی یہ دھوپ چھاؤں تو دیکھے کڑی دھوپ میری تو سایہ پرایا کبھی دب گئے بوجھ سے آپ اپنے کبھی بوجھ کاندھے پہ لادا پرایا تعجب ہے گنگا بہی بھی تو الٹی پرایا تو اپنا ہے اپنا پرایا نہ جانے کوئی کینچلی کب بدل لے نگاہوں کا ...

    مزید پڑھیے

    خوشی ہے نہ غم ہے

    خوشی ہے نہ غم ہے یہ کیسا ستم ہے بھرم ہی بھرم ہے کسے کس کا غم ہے ابھی دم میں دم ہے خدا کا کرم ہے وفا ہے جہاں میں مگر کالعدم ہے دگر گوں زمانہ نگوں جام جم ہے کرم اور مجھ پر ستم گر ستم ہے ہے جس سر میں سودا وہ خم تھا نہ خم ہے خدا پھر خدا ہے صنم پھر صنم ہے ہر آنسو شرارہ خدا کی قسم ...

    مزید پڑھیے