غم الفت نے لطف زندگی کی آبرو رکھ لی

غم الفت نے لطف زندگی کی آبرو رکھ لی
یہ وہ دشمن ہے جس نے دوستی کی آبرو رکھ لی


سیہ زلفوں نے لہرا کر نکھارا حسن چہرے کا
اندھیروں نے بکھر کر روشنی کی آبرو رکھ لی


ہنسی آ تو رہی ہے دل کے زخموں کو یہ کیا کم ہے
ترے بخشے ہوئے غم نے خوشی کی آبرو رکھ لی


نگاہ ناز کے انداز تو دیکھو کہ چپکے سے
کسی کی آبرو لے لی کسی کی آبرو رکھ لی


یہ میرا ظرف ہے جو میں نے کڑوے گھونٹ پی کر بھی
سر محفل تری ساقی گری کی آبرو رکھ لی


نہ آتی رنگ پر یہ بزم ہستی وہ تو یہ کیسے
کہ ساز دل نے نغمہ پروری کی آبرو رکھ لی