خوشی ہے نہ غم ہے

خوشی ہے نہ غم ہے
یہ کیسا ستم ہے


بھرم ہی بھرم ہے
کسے کس کا غم ہے


ابھی دم میں دم ہے
خدا کا کرم ہے


وفا ہے جہاں میں
مگر کالعدم ہے


دگر گوں زمانہ
نگوں جام جم ہے


کرم اور مجھ پر
ستم گر ستم ہے


ہے جس سر میں سودا
وہ خم تھا نہ خم ہے


خدا پھر خدا ہے
صنم پھر صنم ہے


ہر آنسو شرارہ
خدا کی قسم ہے


ہوئے گھر سے بے گھر
یہ ایثار کم ہے


پڑھو سازؔ اس کو
جو دل پر رقم ہے