جو اپنی زباں پر ہے قصہ پرایا
جو اپنی زباں پر ہے قصہ پرایا
وہ ہے تیرا اپنا نشانہ پرایا
ذرا کوئی یہ دھوپ چھاؤں تو دیکھے
کڑی دھوپ میری تو سایہ پرایا
کبھی دب گئے بوجھ سے آپ اپنے
کبھی بوجھ کاندھے پہ لادا پرایا
تعجب ہے گنگا بہی بھی تو الٹی
پرایا تو اپنا ہے اپنا پرایا
نہ جانے کوئی کینچلی کب بدل لے
نگاہوں کا دھوکا ہے اپنا پرایا
اسی کا میں ہو کر رہا زندگی بھر
مجھے عمر بھر جس نے سمجھا پرایا
مجھے سازؔ اپنوں نے دیکھا تو بولے
یہ اپنا نہیں ہے پرایا پرایا