رباب دل کا ہر اک تار چھین لو مجھ سے
رباب دل کا ہر اک تار چھین لو مجھ سے
جو ہو سکے تو مرا پیار چھین لو مجھ سے
امید و حسرت و ارمان و یاس و رنج و الم
یہی ہیں میرے مددگار چھین لو مجھ سے
قدم ملا کے چلو راہ عشق میں ورنہ
مرا چلن مری رفتار چھین لو مجھ سے
مجھے نہیں ہے گوارا نوازش بیجا
مری محبت خوددار چھین لو مجھ سے
تمہیں قسم ہے مسیحا بجائے جاں بخشی
مری حیات دل آزار چھین لو مجھ سے
تم اپنے لب کے لئے میرے زخم دل کی ہنسی
خوشی سے اے مرے سرکار چھین لو مجھ سے
اگر جہاں میں یہ عالم ہے سرد مہری کا
تو میری گرمئ گفتار چھین لو مجھ سے
تمہارے دل میں بھی گھر کر چکے ہوں چپکے سے
تو آؤ سازؔ کے اشعار چھین لو مجھ سے