موج ابھری آ گئی ساحل کے ہاتھ

موج ابھری آ گئی ساحل کے ہاتھ
میں چلا اور جا لگا منزل کے ہاتھ


اک تڑپ جو آ گئی بسمل کے ہاتھ
کیوں نہ چومے بڑھ کے وہ بسمل کے ہاتھ


در حقیقت موت کا پیغام ہے
نا خدائی اور نا قابل کے ہاتھ


ہاتھ چھوٹے پڑ گئے انصاف کے
اتنے لمبے تھے مرے قاتل کے ہاتھ


گھونٹ دیجے قابلیت کا گلا
کیجئے مضبوط نا قابل کے ہاتھ


نقش میں نے کر دئے نقش قدم
ایک دولت آ گئی منزل کے ہاتھ


اس طرح پھیلے رہے فتنہ فساد
جس طرح پھیلے رہیں سائل کے ہاتھ


کیا بتاؤں کیسی درگت بن گئی
دل کی میرے ہاتھ میری دل کے ہاتھ


سازؔ آسانی مرے ہاتھ آ گئی
آ گیا جس وقت میں مشکل کے ہاتھ