دن کے سینہ پہ رات کا پتھر
دن کے سینہ پہ رات کا پتھر
کس کے ہے التفات کا پتھر
روک دیتا ہے بڑھتے قدموں کو
ہو کے حائل حیات کا پتھر
سنگ بنیاد ہے محبت کا
یا مری کائنات کا پتھر
مجھ کو دنیا نے آزمایا ہے
پھینک کر حادثات کا پتھر
ٹکڑے ٹکڑے صفات کی مورت
ریزہ ریزہ ہے ذات کا پتھر
ہے یہ امداد باہمی کا بھون
پانچ کی اینٹ سات کا پتھر
کیا اٹھائیں گے ناتواں کاندھے
دہر کے التفات کا پتھر
ہاتھ آ جاؤ گے رنگے ہاتھوں
پھینک دو اپنے ہاتھ کا پتھر
ہونے والا ہے نذر آندھی کی
اک نہ اک دن حیات کا پتھر
سازؔ کل واردات کہہ دے گا
موقع واردات کا پتھر