لیث قریشی کی غزل

    کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی

    کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی تہی سخن سے نہیں ہے سکوت صحرا بھی فضائے دشت میں اہل جنوں کے ہنگامے ہمیں تو راس نہ آئی مگر یہ دنیا بھی زمین تشنہ دہن کی صدا تو آئی تھی مگر یہ بات کہ ابر بہار برسا بھی یہ بوئے گل بھی پریشاں بہت ہوئی لیکن بہت ہوا مری آوارگی کا چرچا بھی کیا ہے فتح ...

    مزید پڑھیے

    کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتا

    کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتا نظر ہمیں کوئی اہل نظر نہیں آتا ہوائے دشت یہ تاثیر خود فراموشی بہت دنوں سے تصور میں گھر نہیں آتا عجب شناور بحر وجود ہیں ہم بھی ہمیں زمان و مکاں کا سفر نہیں آتا لہو سے لفظ کی تخلیق ہم نہیں کرتے جبھی تو اپنے بیاں میں اثر نہیں آتا یہ سوچتے ہیں کہ ...

    مزید پڑھیے

    سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو

    سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو مری انائے خفی کو سوال ہی سمجھو وہ روبرو ہیں مرے دل مگر یہ کہتا ہے خیال حسن کو حسن خیال ہی سمجھو رفاقتوں کے قرینے بدلتے رہتے ہیں سو کرب‌ ہجر کو لطف وصال ہی سمجھو تڑپ رہے ہیں جو یوں ہم صدائے ساز کے ساتھ اسے کچھ اور نہیں وجد و حال ہی سمجھو مرے ہنر ...

    مزید پڑھیے

    مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیں

    مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیں زندگی اب میں ترے احساں اٹھا سکتا نہیں جو شکست آرزو پر مسکرا سکتا نہیں زندگی کی عظمتوں کا راز پا سکتا نہیں طالبان رنگ و بو کانٹوں سے دامن کش نہ ہوں شاخ گل تک یوں کسی کا ہاتھ جا سکتا نہیں تجھ سے مل کر جانے کیوں ہوتا ہے یہ مجھ کو گماں تجھ کو کھو ...

    مزید پڑھیے

    بارہا یورش افکار نے سونے نہ دیا

    بارہا یورش افکار نے سونے نہ دیا فکر آزاد ہے آزار نے سونے نہ دیا بند تھیں دائرۂ خواب میں آنکھیں اپنی فکر کی گردش پرکار نے سونے نہ دیا تھی تصور میں نہاں خانۂ دل کی تصویر رات بھر دیدۂ بے دار نے سونے نہ دیا مجھ سے تھے بر سر پیکار مرے ذہن و ضمیر مجھ کو بیدارئ کردار نے سونے نہ ...

    مزید پڑھیے

    ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیا

    ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیا منافقوں سے نبھائیں رفاقتیں کیا کیا حیات عرصۂ کرب و بلا میں گزری ہے تمام عمر ہوئی ہیں شہادتیں کیا کیا کسی سے پیار کسی سے وفا کسی سے خلوص بگڑ گئی ہیں ہماری بھی عادتیں کیا کیا یہ جبر ہے کہ غرض سے غرض بدلتے ہیں ہمیں عزیز تھیں ورنہ شرافتیں کیا ...

    مزید پڑھیے

    عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئے

    عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئے اسی کردار سے ہم صاحب کردار ہوئے کبھی کانٹوں کی جراحت سے بھی آرام ملا لالہ و گل بھی کبھی باعث آزار ہوئے آدمیت کے خد و خال کو زینت نہ ملی سارے آئین فقط نقش بہ دیوار ہوئے ہائے وہ حسن کسی نے بھی نہ دیکھا جس کو ہائے وہ راز جو رسوا سر بازار ...

    مزید پڑھیے

    نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیں

    نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیں فضائے گلشن ہستی مگر کشادہ نہیں مزاج عشق تو اپنا ہے اعتدال پسند یہی روش ہے کبھی کم نہیں زیادہ نہیں خزاں میں بھی مرا نشہ اتر نہیں سکتا کہ یہ ہے جوش جنوں کوئی جوش بادہ نہیں شعور و فکر میں آزاد ہے مزاج مرا مرے بدن پہ کسی اور کا لبادہ نہیں نگاہ ...

    مزید پڑھیے

    یہ مسئلہ ہے اور کوئی مسئلہ نہیں

    یہ مسئلہ ہے اور کوئی مسئلہ نہیں اپنا حریف میں ہوں کوئی دوسرا نہیں کل مجھ پہ کھل گیا ترا حسن منافقت اس سانحے کے بعد کوئی سانحہ نہیں مفلس نہیں ہے ذہن تہی دست ہوں تو کیا دست طلب دراز کہیں بھی کیا نہیں ہر گام و ہر نفس رہے درپیش مرحلے ذوق سفر گواہ کہ میں بھی رکا نہیں اے مصلحت پسند ...

    مزید پڑھیے

    یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتے

    یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتے اسیر خود کو نہ ہم دام رنگ و بو کرتے عتاب بیں جو ہمارے ہیں نکتہ چیں ہم پر کہیں جو ملتے تو ہم کھل کے گفتگو کرتے وہ آئنہ جو کرے حرف گیرئ کردار جو ہاتھ آئے تو لوگوں کے روبرو کرتے کہیں سراغ خلوص و وفا اگر ملتا تو اپنی ذات کو ہم وقف جستجو کرتے ہم آج اشک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2