مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیں

مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیں
زندگی اب میں ترے احساں اٹھا سکتا نہیں


جو شکست آرزو پر مسکرا سکتا نہیں
زندگی کی عظمتوں کا راز پا سکتا نہیں


طالبان رنگ و بو کانٹوں سے دامن کش نہ ہوں
شاخ گل تک یوں کسی کا ہاتھ جا سکتا نہیں


تجھ سے مل کر جانے کیوں ہوتا ہے یہ مجھ کو گماں
تجھ کو کھو سکتا ہوں لیکن تجھ کو پا سکتا نہیں


مطمئن ہوں میں کہ زندہ ہے مری طبع غیور
میری خودداری پہ کوئی حرف آ سکتا نہیں


شمع گریاں کو بھلا کیا عظمت غم کی خبر
کوئی پروانہ کبھی آنسو بہا سکتا نہیں


تجھ سے ملنے کی تمنا ہے کہ تجھ سے رہ کے دور
اعتبار ہستئ موہوم آ سکتا نہیں


لیثؔ میں رکھتا ہوں پہلو میں دل درد آشنا
بھول کر بھی میں کسی کا دل دکھا سکتا نہیں