عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئے
عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئے
اسی کردار سے ہم صاحب کردار ہوئے
کبھی کانٹوں کی جراحت سے بھی آرام ملا
لالہ و گل بھی کبھی باعث آزار ہوئے
آدمیت کے خد و خال کو زینت نہ ملی
سارے آئین فقط نقش بہ دیوار ہوئے
ہائے وہ حسن کسی نے بھی نہ دیکھا جس کو
ہائے وہ راز جو رسوا سر بازار ہوئے
کتنے دشمن تھے زمانے میں ہمارے لیکن
اپنی ہی ہستی سے ہم برسر پیکار ہوئے
دوستو ایک تمہاری بھی ریا کاری سے
ہم کو ہونا تھا خبردار خبردار ہوئے
نوحۂ ذات کا یہ بھی تو اک انداز ہوا
اشک آنکھوں میں نہیں آئے تو اشعار ہوئے
بات کچھ یوں ہے کہ ہمت ہی نہ ہاری ہم نے
میرے پندار خودی پر تو بہت وار ہوئے
رنگ و بو پاؤں کی زنجیر ہوئے جاتے ہیں
جا نسیم سحری ہم تو گرفتار ہوئے
ہم کہ سر گرم سفر تھے رہے سر گرم سفر
مرحلے تو کبھی آساں کبھی دشوار ہوئے
اب تو ناقدرئ ارباب ہنر ہے اے لیثؔ
آپ کیا سوچ کے اس عہد میں فن کار ہوئے