کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی
کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی تہی سخن سے نہیں ہے سکوت صحرا بھی فضائے دشت میں اہل جنوں کے ہنگامے ہمیں تو راس نہ آئی مگر یہ دنیا بھی زمین تشنہ دہن کی صدا تو آئی تھی مگر یہ بات کہ ابر بہار برسا بھی یہ بوئے گل بھی پریشاں بہت ہوئی لیکن بہت ہوا مری آوارگی کا چرچا بھی کیا ہے فتح ...