لیث قریشی کے تمام مواد

20 غزل (Ghazal)

    کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی

    کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی تہی سخن سے نہیں ہے سکوت صحرا بھی فضائے دشت میں اہل جنوں کے ہنگامے ہمیں تو راس نہ آئی مگر یہ دنیا بھی زمین تشنہ دہن کی صدا تو آئی تھی مگر یہ بات کہ ابر بہار برسا بھی یہ بوئے گل بھی پریشاں بہت ہوئی لیکن بہت ہوا مری آوارگی کا چرچا بھی کیا ہے فتح ...

    مزید پڑھیے

    کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتا

    کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتا نظر ہمیں کوئی اہل نظر نہیں آتا ہوائے دشت یہ تاثیر خود فراموشی بہت دنوں سے تصور میں گھر نہیں آتا عجب شناور بحر وجود ہیں ہم بھی ہمیں زمان و مکاں کا سفر نہیں آتا لہو سے لفظ کی تخلیق ہم نہیں کرتے جبھی تو اپنے بیاں میں اثر نہیں آتا یہ سوچتے ہیں کہ ...

    مزید پڑھیے

    سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو

    سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو مری انائے خفی کو سوال ہی سمجھو وہ روبرو ہیں مرے دل مگر یہ کہتا ہے خیال حسن کو حسن خیال ہی سمجھو رفاقتوں کے قرینے بدلتے رہتے ہیں سو کرب‌ ہجر کو لطف وصال ہی سمجھو تڑپ رہے ہیں جو یوں ہم صدائے ساز کے ساتھ اسے کچھ اور نہیں وجد و حال ہی سمجھو مرے ہنر ...

    مزید پڑھیے

    مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیں

    مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیں زندگی اب میں ترے احساں اٹھا سکتا نہیں جو شکست آرزو پر مسکرا سکتا نہیں زندگی کی عظمتوں کا راز پا سکتا نہیں طالبان رنگ و بو کانٹوں سے دامن کش نہ ہوں شاخ گل تک یوں کسی کا ہاتھ جا سکتا نہیں تجھ سے مل کر جانے کیوں ہوتا ہے یہ مجھ کو گماں تجھ کو کھو ...

    مزید پڑھیے

    بارہا یورش افکار نے سونے نہ دیا

    بارہا یورش افکار نے سونے نہ دیا فکر آزاد ہے آزار نے سونے نہ دیا بند تھیں دائرۂ خواب میں آنکھیں اپنی فکر کی گردش پرکار نے سونے نہ دیا تھی تصور میں نہاں خانۂ دل کی تصویر رات بھر دیدۂ بے دار نے سونے نہ دیا مجھ سے تھے بر سر پیکار مرے ذہن و ضمیر مجھ کو بیدارئ کردار نے سونے نہ ...

    مزید پڑھیے

تمام