لیث قریشی کی غزل

    اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

    اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو میں تو اس پر بھی ہوں راضی کہ ترے شہر کے لوگ میرے ...

    مزید پڑھیے

    کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتی

    کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتی نگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتی بسی ہوئی ہے جو آبادیوں میں بربادی جنوں کی موج بیاباں کا رخ نہیں کرتی صبا کو فصل بہاراں سے کیا ملا آخر وہ گل کھلے کہ گلستاں کا رخ نہیں کرتی حصار وقت میں اپنا وجود ہے محبوس اسیری اب رہ زنداں کا رخ نہیں کرتی مرے ...

    مزید پڑھیے

    خوب انداز پذیرائی ہے

    خوب انداز پذیرائی ہے عزت نفس پہ بن آئی ہے غم دوراں غم جاناں غم جاں میری ان سب سے شناسائی ہے ہاتھ پھیلایا ہے اپنے آگے یہ گدائی ہے کہ دارائی ہے دل کے آئینے میں یہ تو ہے کہ میں ایک صورت سی نظر آئی ہے تجربہ یہ ہے کہ ہر زلف خرد دست وحشت ہی نے سلجھائی ہے دل کو افلاس کا احساس ...

    مزید پڑھیے

    تم نے بھولے سے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا

    تم نے بھولے سے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا ہم جو بچھڑیں گے تو کیا حال ہمارا ہوگا آ گئے ہو تو اجالا ہے مری دنیا میں جاؤ گے تم تو اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا یہ نہ کہیے کہ مری آنکھ سے ٹپکا آنسو چھوڑیئے بھی کوئی ٹوٹا ہوا تارا ہوگا کیا خبر تھی کی ترے شہر سے پہلے اے دوست رات آ جائے گی اور راہ ...

    مزید پڑھیے

    تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا

    تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا ہم پر تو جو ستم بھی ہوا بے سبب ہوا اس ساعت سعید کو کیا نام دیجئے انساں اسیر وقت کے زنداں میں جب ہوا شعلہ صفت ہیں رقص میں اپنے چمن کے پھول اس عالم‌ بہار میں یہ کیا غضب ہوا شاید یہی مذاق طلب کی ہے انتہا دنیائے رنگ و بو میں بھی دل بے طلب ہوا منصف کو ...

    مزید پڑھیے

    اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروں

    اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروں میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے کیا کروں یہ درد دل تو حاصل عمر دراز ہے میں اس کو اپنی ذات سے کیوں کر جدا کروں دنیا یہی کرے گی تو دنیا سے پیشتر مجروح کیوں نہ خود ہی میں اپنی انا کروں دنیا میں کون ہے جو نہیں ہے مرے خلاف اک تم ہی رہ گئے ہو تمہیں بھی خفا ...

    مزید پڑھیے

    مناظر شب رفتہ خیال و خواب ہوئے

    مناظر شب رفتہ خیال و خواب ہوئے وہ اشک تھے کہ ستارے سبھی خراب ہوئے وہ نا خدا کہ خدائی کا جن کو دعویٰ تھا سفینے ان کی حماقت سے زیر آب ہوئے ہم اہل درد زمانے کے ہاتھ کیا آتے کہ ہم تو اپنے لئے بھی نہ دستیاب ہوئے تلاش جام طرب میں کہاں کہاں نہ گئے پئے بغیر بھی ہم تو بہت خراب ہوئے ہم ان ...

    مزید پڑھیے

    دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجود

    دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجود یہ سرزمیں اداس ہے بارش کے باوجود خیرہ نہ کر سکے نگہ امتیاز کو جھوٹے نگیں نمود و نمائش کے باوجود ایک پھول بھی چمن میں نہ دل کھول کر ہنسا شبنم کے آنسوؤں کی گزارش کے باوجود کیا قہر ہے کہ جھوٹ میں ملتی ہے عافیت سچ بولنا محال ہے خواہش کے ...

    مزید پڑھیے

    بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں

    بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں پھر خود ہی ٹھہر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں ہم پیار سے جینے کی دعا دیتے ہیں جن کو وہ لوگ بھی مر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں کچھ لوگ تجھے دیکھ کے اے فصل بہاراں با دیدۂ تر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں اک وہم سمجھتے تھے حقیقت کو جو کل تک اب خواب سے ڈر جاتے ...

    مزید پڑھیے

    کئی پیام برائے سکون جاں تو ملے

    کئی پیام برائے سکون جاں تو ملے مگر تمام ہوئی اپنی داستاں تو ملے کوئی تو سمجھے مرے کرب کا لب و لہجہ یہ آرزو ہے مجھے کوئی ہم زباں تو ملے کوئی فضا کوئی موسم ہو ہم سے ہو منسوب بہار اگر نہیں ملتی ہمیں خزاں تو ملے مقام شکر ہے میرے لئے کہ آخر کار مرے حریفوں میں کچھ اہل خانداں تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2