اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو
اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو میں تو اس پر بھی ہوں راضی کہ ترے شہر کے لوگ میرے ...