نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیں
نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیں
فضائے گلشن ہستی مگر کشادہ نہیں
مزاج عشق تو اپنا ہے اعتدال پسند
یہی روش ہے کبھی کم نہیں زیادہ نہیں
خزاں میں بھی مرا نشہ اتر نہیں سکتا
کہ یہ ہے جوش جنوں کوئی جوش بادہ نہیں
شعور و فکر میں آزاد ہے مزاج مرا
مرے بدن پہ کسی اور کا لبادہ نہیں
نگاہ چاہیے تحریر ہو خفی کی جلی
کتاب زیست کا کوئی ورق بھی سادہ نہیں
رہ حیات میں دانستہ مثل شمع جلے
ہماری ذات کا ایثار بے ارادہ نہیں
نہ زاد راہ کی خواہش نہ راہبر کی طلب
ہمارے واسطے دشوار کوئی جادہ نہیں
پڑا جو وقت تو غیروں نے میرا ساتھ دیا
مرے شریک مرے اہل خانوادہ نہیں
بساط دہر پہ کیا چال کامیاب چلے
تری نظر میں اگر عظمت پیادہ نہیں
جہاں میں ملنے کو ملتے ہیں یوں تو سب سے لیثؔ
مگر کسی سے بھی مقصود استفادہ نہیں